تحریر:مولانا سید علی بنیامین نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
لاشوں پر سیاست یا ضمیر پر دستک؟
کہتے ہیں:
“لاشوں کو دفنا دو، لاشوں پر سیاست نہ کرو!
سوال یہ ہے
کیا کربلا میں لاشیں فقط دفنائی گئی تھیں؟
یا وہ لاشیں تھیں جنہوں نے تاریخ کے چہرے سے نقاب نوچ لیے تھے؟
کیا بیبی زینب سلام اللہ علیہا نےنعوذباللہ لاشوں پر سیاست کی تھی؟
یا اس بی بی نے لاشوں کو آئینہ بنا کر زندہ مگر مردہ ضمیروں کو ان کا اصل چہرہ دکھایا تھا؟
اگر لاشوں پر بولنا جرم ہے تو پھر یزید کی مسند کیوں لرز گئی تھی؟
اور اگر خاموشی ہی عافیت تھی تو دربارِ شام میں وہ خطبہ کیوں گونجا تھا، جس نے سلطنت کو لفظوں سے شکست دے دی؟
اے سادہ لوحو!
اے اپنی ہی صفوں میں چھپے ہوئے غفلت کے اسیر لوگو!
یہ کہنا کہ
“دفنا دو، سوال نہ اٹھاؤ”
دانستہ ہو یا نادانی میں
دشمن کی ہی زبان بولنا ہے۔
تم نے کہا: لاشوں پر سیاست نہ کرو، مگر تم نے لاشوں کو لاوارث چھوڑ کر خود سب سے گھٹیا سیاست کی۔
نتیجہ کیا نکلا؟
شہداء انصاف کے منتظر رہ گئے، زخمی کراہتے رہے، جنازے بکھر گئے اور ذمہ داری ہوا میں تحلیل ہو گئی۔
اگر یہ بےسمتی کی سیاست نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
پھر اچانک شور اٹھتا ہے “قیادت کہاں ہے؟”
سوال یہ ہے
کیا قیادت موسم کی محتاج ہوتی ہے؟
کیا قیادت نعروں سے جنم لیتی ہے؟
کیا قیادت ہجوم کے جذبات کی غلام ہوتی ہے؟
جان لو!
قیادت وہ نہیں جو ہجوم کے پیچھے چلے، قیادت وہ ہے جو ہجوم کو راستہ دے۔
قائد وہ نہیں ہوتا جو گلے پھاڑ کر خطبے دے یا جذبات کی آگ میں سب کو جھونک دے۔
قائد مدبّر ہوتا ہے
حکیم ہوتا ہے
دانا ہوتا ہے
وہ آنسوؤں کی گنتی نہیں کرتا، وہ قوم کی بقا کا حساب رکھتا ہے۔
اگر قائد جنازے میں آئے تو قائد، نہ آئے تو نہیں؟
تو پھر قائد قائد نہ رہا وہ تمھارا تابع ہو گیا اور تم خود کو قائد سمجھ بیٹھے۔
اے نادانو!
اے بکھری ہوئی صفوں کے مسافرو!
اے منتشر عقلوں کے مالکو!
تم کہتے ہو ہم قیادت کے بغیر ہیں،
مگر مشکل آن پڑے
تو قیادت یاد آ جاتی ہے؟
یہ کیسی منطق ہے؟
یہ کیسا اخلاق ہے؟
قائد موجود ہے
قیادت موجود ہے
سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہے،
سوال یہ ہے کہ تم کہاں ہو؟
کیا تم اس کے پاس گئے؟
کیا تم نے اس سے تجدیدِ عہد کی؟
کیا تم نے اطاعت کا ثبوت دیا؟
یا صرف مطالبات کی فہرست اٹھا کر
شور مچانا ہی کافی سمجھ لیا؟
یاد رکھو
کربلا میں لاشیں دفن ہوئیں تھیں، مگر سوال دفن نہیں ہوئے تھے اور جو قوم سوال دفن کر دے، وہ قوم نہیں رہتی، وہ ایک خاموش قبرستان بن جاتی ہے۔
آج، جب جمعہ کے دن، اللہ کے گھر میں نمازیوں کے خون سے صفیں رنگین ہوئیں تو خاموشی جرم ہے اور سوال کرنا عبادت؟!
یہ تحریر کسی فرد کے خلاف نہیں، یہ سوئی ہوئی غیرت کے خلاف ہے، یہ سیاست نہیں، یہ شعور کی بقا کا اعلان ہے۔
نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں؛ حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔









آپ کا تبصرہ